Wednesday, August 28, 2019

خوشحالی کی دستک. (5)

.                     خوشحالی کی دستک. (5)

         جان فریڈرک بوئیپل ایک جرمن ہنر مند تھا. وہ ہڈیوں، سینگوں، لکڑی اور سیپیوں سے کارآمد اشیاء بطور خاص بٹن بنایا کرتا تھا. اس کو سیپیوں سے اشیاء بنانا پسند تھا مگر جرمنی میں اس کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی. فریڈرک کے علم میں یہ بات آئی کہ  امریکہ میں دریائے میسی سیپی کے کنارے آباد بستیوں میں سیپ بہت بڑی تعداد میں دستیاب ہوتے ہیں. اس نے رخت سفر باندھا اور میسی سیپی کے کنارے آباد چھوٹے سے شہر مسکا تین.       ( Muscatine ) 
پہنچ گیا. 
  
           یہ سن 1888  کا واقعہ ہے. مگر شومئی قسمت کہ وہاں پہنچ کر اس کے پاس اتنے وسائل ہی نہ بچے کہ وہ بٹن بنانے کا آغاز کرسکتا. اور نہ ہی کسی سرمایہ کار نے اس کا اعتبار کیا. تین سال تک دن کو کھیت مزدوری کرتا رہا اور شام کو مزدوری کی رقم سے بٹن بنانے والی مشینیں بناتا رہا حتی کہ 1891 میں اس نے ایک کمرے سے سیپیوں سے بٹن بنانے کا آغاز کیا جو  تین سال میں مناسب حد تک بڑی فیکٹری میں تبدیل ہوگئی. 
  
           مقامی لوگوں نے بھی  اس سے کام سیکھ کر بٹن بنانا شروع کردیئے. بہت سے لوگ دریا سے گونگے اور سیپیاں پکڑنے پر لگ گئے. ادھرسرکار نے ٹیکس قوانین میں کچھ موافق ردوبدل کیے اور یوں لگ بھگ دس سال میں پوری ریاست کے دریائے میسی سیپی کے سب ساحلی شہروں میں بٹن بنانے کے صنعت پھیل گئی. 
  
            1910 میں ان صنعتوں میں ایک ارب سے زائد بٹن بنائے گئے. جس سے لاکھوں ڈالر زرمبادلہ کی بچت ہوئی. دوسری طرف جاپان میں بھی انیسویں صدی کے آخر میں سیپ کے شیل سے بٹن بنانے کا کام بڑے پیمانے پر شروع ہوا. سینکڑوں فیکٹریوں میں ہزاروں لوگوں کا روزگار اس سے وابستگی رہا. یہ سلسلہ تقریباً نصف صدی تک پورے زوروشور سے جاری رہا.

            سن 1935 میں پولیسٹر کی ایجاد سے  بٹن بنانے کی لاگت اور محنت میں حیران کن کمی واقع ہوئی. اس کے بعد سے نوے فیصد بٹن پولیسٹر پر منتقل ہوگئے مگر شیل سے بنے بٹن میں ایک خاص قسم کی موتیوں والی چمک ہوتی ہے جو پلاسٹک کے بنے بٹن میں آہی نہیں سکتی اس وجہ سے باذوق لوگ، روؤسا اور قدرتی اشیاء کے رسیا اب  بھی شیل کے بنے ہوئے بٹن استعمال کرتے ہیں. اس کے علاوہ اٹلی اور یورپ کے مشہور برانڈز بھی یہی بٹن استعمال کرتے ہیں. 

              اس وقت جاپان میں سینکڑوں فیکٹریاں جدید ترین کمپیوٹرائزڈ مشینوں اور لیزر انگریورز کی مدد سے لاکھوں بٹن روزانہ تیار کررہی ہیں. صرف ٹوموئی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کے وئیر ہاوس میں مختلف سائز اور رنگوں کے اربوں بلینکس پڑے ہیں. جو آرڈرز موصول ہونے پر فوری طور پر مشین شاپ میں پہنچادیے جاتے ہیں. 
  
          ترکی کی پولسان کمپنی نصف صدی سے شیل بٹن میں خطہ میں سبقت لیے ہوئے. چین فلپائن، ویت نام اور بھارت کی سینکڑوں فیکٹریاں بڑی تعداد میں سیپ شیل کے بٹن بنا کر کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ کمارہی ہیں.

          پاکستان کو اللہ کریم نے ہزاروں کلومیٹر لمبا سمندر دے رکھا ہے ہر مدوجزر لاکھوں کی تعداد میں سیپیاں اور مونگے وغیرہ چھوڑ کرجاتا ہے. اس کے علاوہ ہزاروں مچھیرے جو کھلے سمندر میں مچھلیاں شکار کرت ہیں ان کو کچھ  بہتر معاوضہ پر سیپ پکڑنے کی ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے. 
    
          سیپ سے بٹن بنانے کا عمل بہت زیادہ مشکل نہیں. بس ایک ہول سا سے بلینک کاٹنا ہیں. پھر چھوٹا سا خراد مشین جیسا اوزار ہو جس پر اس کی شکل بنے اور چھوٹا سا رما سوراخوں کیلیے.. پالشنگ اور پیکنگ. درجنوں وڈیوز نیٹ پر موجود ہیں. عام خراد کا کام جاننے والا بندہ باآسانی سیپ شیل سے بٹن بنا سکتا ہے. 
   
        میرے خیال میں دیسی مشینیں بنائی جائیں تو زیادہ سے زیادہ دولاکھ میں سب مشینیں بن سکتی ہیں. سینکڑوں مہنگے برانڈز ہیں  وطن عزیز میں کپڑوں کے. ان کو بتائیں. سماجی ذرائع پر مہم چلائیں. کہ پلاسٹک کے بٹن گرین ہاؤس ایفکٹ پیدا کرتے ہیں جو گلابل وارمنگ کا باعث ہے اس کے علاوہ بائیو ڈیگریڈیبل بھی نہیں. 

         سعودی عرب، مڈل ایسٹ میں بہت رئیس عربی ہیں. ایک بار یہ بتانے کی دیر ہے کہ یورپین برانڈز یہی استعمال کرتے ہیں. گاہک بہت. پھر یورپ امریکی منڈیاں. تھوڑی بہت ہمت تو بہرحال کرنا پڑے گی. 

        یہ تو صرف ایک شے ہے. سیپ شیل سے درجنوں اشیاء بنتی ہیں اور بہت مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں. باتھ سیٹ. جیولری باکس. سووینئرز. گھریلو ڈیکوریشن کی چیزیں. چمچ، کی رنگز گلدان اور نہ جانے کیا کیا. اور بنانے کا طریقہ تقریباً سبھی  کا ایک جیسا. لگ بھگ  وہی اوزار اور مشینیں درکار ہیں جو بٹن بنانے کیلیے چاہئیں. بس تھوڑا سا حوصلہ اور ذرا سی مشق درکار ہے. اور ایک زبردست منافع بخش کاروبار آپ کا منتظر ہے 
   
          اور ہاں بٹن سے جو باقی سیپ کا ویسٹ بچے گا. وہ بھی رائیگاں نہیں بہت سے استعمال ہیں.اس کا برادہ  فیس سکرب میں استعمال ہوتا ہے. فائرفائٹنگ پاؤڈر سے لیکر کلر کی زمین کی بحالی تک درجنوں استعمال ہیں.کیا بھلا… 
اب کچھ جستجو تو آپ کو بھی کرنی چاہیے.

No comments:

Post a Comment

خوشحالی کی دستک. (5)

.                     خوشحالی کی دستک. (5)          جان فریڈرک بوئیپل ایک جرمن ہنر مند تھا. وہ ہڈیوں، سینگوں، لکڑی اور سیپیوں سے کارآم...