Wednesday, August 28, 2019

خوشحالی کی دستک. (5)

.                     خوشحالی کی دستک. (5)

         جان فریڈرک بوئیپل ایک جرمن ہنر مند تھا. وہ ہڈیوں، سینگوں، لکڑی اور سیپیوں سے کارآمد اشیاء بطور خاص بٹن بنایا کرتا تھا. اس کو سیپیوں سے اشیاء بنانا پسند تھا مگر جرمنی میں اس کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی. فریڈرک کے علم میں یہ بات آئی کہ  امریکہ میں دریائے میسی سیپی کے کنارے آباد بستیوں میں سیپ بہت بڑی تعداد میں دستیاب ہوتے ہیں. اس نے رخت سفر باندھا اور میسی سیپی کے کنارے آباد چھوٹے سے شہر مسکا تین.       ( Muscatine ) 
پہنچ گیا. 
  
           یہ سن 1888  کا واقعہ ہے. مگر شومئی قسمت کہ وہاں پہنچ کر اس کے پاس اتنے وسائل ہی نہ بچے کہ وہ بٹن بنانے کا آغاز کرسکتا. اور نہ ہی کسی سرمایہ کار نے اس کا اعتبار کیا. تین سال تک دن کو کھیت مزدوری کرتا رہا اور شام کو مزدوری کی رقم سے بٹن بنانے والی مشینیں بناتا رہا حتی کہ 1891 میں اس نے ایک کمرے سے سیپیوں سے بٹن بنانے کا آغاز کیا جو  تین سال میں مناسب حد تک بڑی فیکٹری میں تبدیل ہوگئی. 
  
           مقامی لوگوں نے بھی  اس سے کام سیکھ کر بٹن بنانا شروع کردیئے. بہت سے لوگ دریا سے گونگے اور سیپیاں پکڑنے پر لگ گئے. ادھرسرکار نے ٹیکس قوانین میں کچھ موافق ردوبدل کیے اور یوں لگ بھگ دس سال میں پوری ریاست کے دریائے میسی سیپی کے سب ساحلی شہروں میں بٹن بنانے کے صنعت پھیل گئی. 
  
            1910 میں ان صنعتوں میں ایک ارب سے زائد بٹن بنائے گئے. جس سے لاکھوں ڈالر زرمبادلہ کی بچت ہوئی. دوسری طرف جاپان میں بھی انیسویں صدی کے آخر میں سیپ کے شیل سے بٹن بنانے کا کام بڑے پیمانے پر شروع ہوا. سینکڑوں فیکٹریوں میں ہزاروں لوگوں کا روزگار اس سے وابستگی رہا. یہ سلسلہ تقریباً نصف صدی تک پورے زوروشور سے جاری رہا.

            سن 1935 میں پولیسٹر کی ایجاد سے  بٹن بنانے کی لاگت اور محنت میں حیران کن کمی واقع ہوئی. اس کے بعد سے نوے فیصد بٹن پولیسٹر پر منتقل ہوگئے مگر شیل سے بنے بٹن میں ایک خاص قسم کی موتیوں والی چمک ہوتی ہے جو پلاسٹک کے بنے بٹن میں آہی نہیں سکتی اس وجہ سے باذوق لوگ، روؤسا اور قدرتی اشیاء کے رسیا اب  بھی شیل کے بنے ہوئے بٹن استعمال کرتے ہیں. اس کے علاوہ اٹلی اور یورپ کے مشہور برانڈز بھی یہی بٹن استعمال کرتے ہیں. 

              اس وقت جاپان میں سینکڑوں فیکٹریاں جدید ترین کمپیوٹرائزڈ مشینوں اور لیزر انگریورز کی مدد سے لاکھوں بٹن روزانہ تیار کررہی ہیں. صرف ٹوموئی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کے وئیر ہاوس میں مختلف سائز اور رنگوں کے اربوں بلینکس پڑے ہیں. جو آرڈرز موصول ہونے پر فوری طور پر مشین شاپ میں پہنچادیے جاتے ہیں. 
  
          ترکی کی پولسان کمپنی نصف صدی سے شیل بٹن میں خطہ میں سبقت لیے ہوئے. چین فلپائن، ویت نام اور بھارت کی سینکڑوں فیکٹریاں بڑی تعداد میں سیپ شیل کے بٹن بنا کر کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ کمارہی ہیں.

          پاکستان کو اللہ کریم نے ہزاروں کلومیٹر لمبا سمندر دے رکھا ہے ہر مدوجزر لاکھوں کی تعداد میں سیپیاں اور مونگے وغیرہ چھوڑ کرجاتا ہے. اس کے علاوہ ہزاروں مچھیرے جو کھلے سمندر میں مچھلیاں شکار کرت ہیں ان کو کچھ  بہتر معاوضہ پر سیپ پکڑنے کی ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے. 
    
          سیپ سے بٹن بنانے کا عمل بہت زیادہ مشکل نہیں. بس ایک ہول سا سے بلینک کاٹنا ہیں. پھر چھوٹا سا خراد مشین جیسا اوزار ہو جس پر اس کی شکل بنے اور چھوٹا سا رما سوراخوں کیلیے.. پالشنگ اور پیکنگ. درجنوں وڈیوز نیٹ پر موجود ہیں. عام خراد کا کام جاننے والا بندہ باآسانی سیپ شیل سے بٹن بنا سکتا ہے. 
   
        میرے خیال میں دیسی مشینیں بنائی جائیں تو زیادہ سے زیادہ دولاکھ میں سب مشینیں بن سکتی ہیں. سینکڑوں مہنگے برانڈز ہیں  وطن عزیز میں کپڑوں کے. ان کو بتائیں. سماجی ذرائع پر مہم چلائیں. کہ پلاسٹک کے بٹن گرین ہاؤس ایفکٹ پیدا کرتے ہیں جو گلابل وارمنگ کا باعث ہے اس کے علاوہ بائیو ڈیگریڈیبل بھی نہیں. 

         سعودی عرب، مڈل ایسٹ میں بہت رئیس عربی ہیں. ایک بار یہ بتانے کی دیر ہے کہ یورپین برانڈز یہی استعمال کرتے ہیں. گاہک بہت. پھر یورپ امریکی منڈیاں. تھوڑی بہت ہمت تو بہرحال کرنا پڑے گی. 

        یہ تو صرف ایک شے ہے. سیپ شیل سے درجنوں اشیاء بنتی ہیں اور بہت مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں. باتھ سیٹ. جیولری باکس. سووینئرز. گھریلو ڈیکوریشن کی چیزیں. چمچ، کی رنگز گلدان اور نہ جانے کیا کیا. اور بنانے کا طریقہ تقریباً سبھی  کا ایک جیسا. لگ بھگ  وہی اوزار اور مشینیں درکار ہیں جو بٹن بنانے کیلیے چاہئیں. بس تھوڑا سا حوصلہ اور ذرا سی مشق درکار ہے. اور ایک زبردست منافع بخش کاروبار آپ کا منتظر ہے 
   
          اور ہاں بٹن سے جو باقی سیپ کا ویسٹ بچے گا. وہ بھی رائیگاں نہیں بہت سے استعمال ہیں.اس کا برادہ  فیس سکرب میں استعمال ہوتا ہے. فائرفائٹنگ پاؤڈر سے لیکر کلر کی زمین کی بحالی تک درجنوں استعمال ہیں.کیا بھلا… 
اب کچھ جستجو تو آپ کو بھی کرنی چاہیے.

روزگار_میں_مدد

روزگار_میں_مدد

آج سے کچھ سالوں بعد ایک ایک کر کے پرانے پیشے، پرانی جابز ختم ہوتی رہینگئ ۔۔نئ جاب اور نئے پیشے انکی جگہ لیتے جایئں گے۔۔۔آپ چاہیں یا نہ چاہیں، مانیں یا نہ مانیں زمانہ آپکے اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے بدل رہا ہے ۔۔۔ cutting edge development پر دنیا بھر کی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی نظریں ہونے کے باوجود زیادہ واضح نہیں کہ کونسی نئ جابز ہونگی جو پرانی جابز کی جگہ لینگی۔۔۔ آسٹریلیا کی دو یونیورسٹیوں نے فورڈ موٹر کے ساتھ ملکر اس پر تحقیق شروع کردی ہے کہ آئندہ سالوں میں کونسی نئ جابز پیدا ہونگی۔۔

 ریسرچ کے بعد وہ 100 ایسی ممکنہ نئ جابز کی فہرست بناچکے ہیں جو آج وجود نہیں رکھتے مگر آنے والے وقت کی ضرورت ہیں ۔
یہ فہرست بڑھتی جائے گی اور بدلتی جائے گی مگر جو بچے آج اسکول کالج جارہے ہیں انکے تعلیمی اداروں اور اساتذہ کو بدلتی دنیا کا پہلے سے اندازہ کرکے اپنے نصاب اور طریقہ تعلیم کو تیزی سے بدلنا لازم ہوگا ورنہ پاکستان جیسا ملک نہ بے روزگاری کا کوئ بڑا سیلاب برداشت کرسکتا ہے نہ اپنی مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیئے غیرملکی ورکرز درآمد کرنے کی طاقت رکھتا یے۔۔۔  ہماری 70 فیصد یوتھ سوشل میڈیا پر صرف آوے ہی آوے اور زندہ باد مردہ باد پر لگی یے ۔۔نہ رہنماوں کو انکی بربادی پر دکھ ہے نہ والدین اور اساتذہ کو کوئ سینس کہ نئ ٹیکنالوجیز اور نئ جابز کے حوالے سے ساری دنیا اس وقت برابر کھڑی یے جو چاہے دوڑ لگا دے ۔۔

جو پہلے دوڑا وہ آگے ہی آگے جائے گا۔۔۔یہی وقت یے کہ ہماری ریسرچ اکیڈمیاں، یونورسٹی اور انڈسٹری لیڈرز ملکر بیٹھیں۔۔۔چھوٹے اور معمولی اختلافات کو بھلا کر قومی جذبے سے کوئ پاکستان 2030 یا پاکستان 2040 کا خواب دیکھیں ۔۔۔کانفرنس بلائیں اور سب ملکر اسے دنیا کے صف اول کا ملک بنا دیں۔اگر سوتے رہے اور اور سوشل میڈیا پر بغداد کے مناظر ہی چلتے رہے تو حشر کچھ ان سے مختلف نہیں ہوگا۔۔۔ انٹر نیٹ پر سیکھنا،کورسز کرنا بہت آسان اور سستا ہے ،جو چاہیں جہاں سے دل کرے سیکھیں ۔۔۔

مستقبل کی 100 ممکنہ جاب کو اپنے بچوں اور دوستوں سے شئیر کیجیئے اور جو جس شعبے کا فرد یے وہ مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے اسی سمت میں اپنی استعداد اور معلومات بڑھائے کہ اسکے سوا کوئ اور راستہ نہیں ہے ۔۔۔مستقبل میں برسرروزگار وہی رہے گا جو ساری زندگی طالبعلم بننے کو تیار ہوگا۔۔ہر سال دو سال بعد اس cutting edge development کے نتیجے میں خود کو reskill کرنا ہی ہوگا۔۔۔۔

Technology jobs
===========
Additive manufacturing engineer
Automation anomaly analyst 
Biomimicry innovator 
Bioprinting engineer
Chief digital augmentation officer
Child assistant bot programmer
Digital implant designer 
DigiTech troubleshooter 
Energy and data systems installer
Ethical hacker 
Gamification designer 
Integrated home technology brokers 
Machine-learning developer 
Mechatronics engineer 
New materials engineer 
Quantum computer programmer 
Robot ethicist 
Robot mechanic 
Satellite network maintenance engineer 
Shadowtech manager 
Smart dust wrangler 

People jobs 
=========
100-year counsellor
Aesthetician 
Aged health carer of the future 
AI educator 
Community support worker 
Cross-cultural capability facilitators 
Cyborg psychologist 
Decision support worker 
Digital memorialists and archivists 
Displaced persons re-integrator 
Drone experience designer 
Early childhood teacher 
Lifelong education advisor 
Local community co-ordinator 
Nostalgist 
Personal brand manager & content curator 

Business and Law jobs
====================

AI intellectual property negotiator 
Blockchain talent analyst 
Chief ethics officer 
Community farm finance broker
Drone airspace regulator 
Fusionist 
Innovation manager 
Personalised marketer 
Real-virtual transfer shop manager 
Sharing auditors 
Trendwatcher

Environment jobs 
===============

Aged persons 
climate solutions consultant 
De-extinction geneticist 
Digital apiarist 
Entomicrobiotech cleaners 
Flood control engineer 
Integrated ecology restoration worker 
Waste reclamation and upcycling specialist 
Water management specialist 
Weather control engineer 

Urban jobs
=========

Automated transit system troubleshooter
Autonomous vehicle profile designer 
Biofilm plumber 
Biometric security solutions engineer 
Human habitat designer 
Integrated energy systems strategist 
Massive 3D printed building designer 
Net positive architect 
Regional community growth co-ordinator 
Sustainable energy solutions engineer 

Agriculture jobs 
==============

Agroecological farmer 
Bio-jacker 
Cricket farmer
Farm safety advisor

Space jobs
=========

Offworld habitat designer 
Terraforming microbiologist 

Health jobs 
==========
Data-based medical diagnostician 
Genetics coach 
Health shaper 
Memory optimiser 
Nanomedical engineer 
Nutri-gutome consultant 
Virtual surgeon

Data jobs 
=========
Algorithm interpreter 
Behaviour prediction analyst 
Data commodities broker 
Data farmer 
Data privacy strategist 
Data storage solutions designer 
Data waste recycler 
Forensic data analyst 
Freelance virtual clutter organiser 
Predictive regulation analyst 

Experience jobs
===============

Analogue experience guide 
Food knowledge communicator 
Haptic technology designer 
Media remixer 
Multisensory experience designer 
Space tourism operator
Sportsperson of the future 
Swarm artist 
Virtual and augmented reality experience creator 
Virtual assistant personality designer

 #سہیل_بلخی

خوشحالی کی دستک (4)

.                     خوشحالی کی دستک (4) 

             نیکی موٹو  کوکی چی  ایک جاپانی کاروباری آدمی تھا. اس نے 1885 میں پہلی بار پتہ چلایا کہ کہ سیپ میں موتی کس طرح بنتا ہے. اس نے جانا کہ جب کسی حادثہ کے نتیجہ میں کوئی ریت کا ذرہ یا کسی دوسرے جانور کا کوئی ٹوٹا ہوا حصہ سیپ کے گوشت والے حصہ میں داخل ہوجاتا ہے تو سیپ کو بہت الجھن اور خارش کا احساس ہوتا ہے. اس خارش سے بچنے کیلیے وہ خودکار طریقے سے اسی مادہ کی تہیں اس ریت کے ذرے گرد بنانا شروع کردیتا ہے جس سے اس کا باہری شیل بنا ہوتا ہے. 
    
             تہہ در تہہ کیلشیم کے مرکبات سالہا سال میں اس ریت کے  پرچڑھتے رہتے ہیں تاوقتیکہ وہ ایک موتی کی شکل اختیار کر لیتا ہے. اس جانکاری کے بعد نی کی موٹو نے  مصنوعی طورپر  ریت کے ذرے کی جگہ سیپ کے جسم کا ہی دوسرا حصہ اس کے گوشت میں داخل کرنے کے تجربات کیے. اور کچھ ہی عرصہ میں وہ مصنوعی طریقے سے پیدا کردہ اصل موتی جسے کلچرڈ پرل کا نام دیا گیا حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا. 
   
              اس کامیابی کے بعد اس نے کلچرڈ موتیوں کا پہلا فارم بنایا. اور یو جاپان میں اس صنعت کی بنیاد پڑی. جو 1928 تک جاپان کے سارے مشرقی ساحلی علاقوں تک پھیل چکی تھی. 1944 میں جب امریکہ نے جاپان پر ایٹمی حملے کئے تو جاپانی صنعت اور معیشت بالکل ختم ہوکر رہ گئی. بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ  ان حملوں کے  بعد اگلے پندرہ سال تک جاپان کی معیشت کا سارا بوجھ صرف اور صرف ان موتیوں کی صنعت نے اٹھایا. آج جاپان دنیا میں موتی سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے. اس وقت جاپانیوں کے سیپ فارمز میں پالے جانے والے سیپ کی تعداد اربوں میں ہے. سن 2018 میں انہوں نے لگ بھگ دوسو ارب روپے کے موتی ساری دنیا کو سپلائی کیے. 
   
              جاپان کی دیکھا دیکھی خطے کے سبھی ملکوں بشمول تھائی لینڈ، ویت نام، منیلا بھارت، انڈونیشیا، ملیشیا یہاں تک کہ میانمار میں بھی کلچرڈ پرل کی فارمنگ کی جاتی ہے. چین نے بہت بڑے پیمانے پر اس کو شروع کردیا ہے. بدقسمتی سے پورے خطہ میں فقط ہم پاکستانی ہیں جو ہر فکر سے آزاد خواب مست کے مزے لوٹ رہے ہیں. 
   
            اور اس خطے سے باہر آسٹریلیا، امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک سالانہ اربوں ڈالر اس صنعت سے کمارہے ہیں. آسٹریلیا کے ساحل پر پائے جانے والے سیپ خاص طور پر بڑے سائز کے موتی بنانے میں شہرت رکھتے ہیں. وہاں اس کام میں لوگوں کے شوق کا یہ عالم ہے کہ سمندر سے سیپ پکڑنے کیلیے باقاعدہ لائسنسنگ سسٹم کا اجراء کرنا پڑا تاکہ سمندر میں ان کی آبادی خطرہ کا شکار ہی نہ ہو جائے. 
  
           آجکل جنیٹک انجینئرنگ کی مدد سے  سیپ میں جینیاتی تبدیلیوں سے اپنی مرضی کے رنگوں کے موتی بھی تیار کیے جاتے ہیں. جن کی قیمت ظاہر ہے کہ عام موتیوں سے بہت زیادہ ہوتی ہے. بطور خاص نیلے رنگ کے موتی بہت قیمتی تصور کیے جاتے ہیں. حال ہی میں کالے رنگ کے موتی بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا جس کی پہلی کھیپ لاکھوں ڈالر میں نیلام ہوئی. 
       
        موتی کیلیے سیپ  کو مصنوعی طریقے سے سینچنے کے عمل کو پرل گرافٹنگ کہتے ہیں. یہ ایک انتہائی آسان عمل ہے. سیپ کو کچھ دیر کیلیے نیم گرم پانی میں رکھا جاتا ہے جس سے اس کے اعضاء کھل جاتے ہیں. اس کے بعد کسی دوسرے سیپ سے حاصل کیے گئے چھوٹے سے ٹکڑے کو ایک چاقو جیسے اوزار کی مدد سے چھوٹا سا کٹ لگا کر سیپ کے بدن میں داخل کردیا جاتا ہے. میرے خیال میں یہ بچوں کے ختنے کرنے سے بھی کہیں آسان کام ہے جو کہ لاکھوں لوگ اس ملک میں بغیر کسی ڈگری کے انجام دے رہے ہیں. 

            ذرا تصور کریں. پاکستان کا ہزاروں کلومیٹر لمبا ساحل سمندر، سارے ساحل کے ساتھ ساتھ پرل فارمنگ ہوئی ہو تو کتنے لوگ برسر روزگار ہوں اور کتنا زر مبادلہ کمائیں. ایف ایس سی میڈیکل کرنے والے لاکھوں بچے ہر سال جو میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے میڈیکل کالج میں نہیں جاسکتے ان کیلئے کوئی بی ایس سی پرل فارمنگ کا سلیبس بناکر یونیورسٹیز میں کورسز کروا دیے جائیں.

            بالکل چھوٹا سا ایک آپریشن ہے،  دس بیس لوگوں کو جاپان، یا چین سے تربیت دلواکر  ان یونیورسٹیز میں تربیت پر معمور کردیا جائے. سرمایہ دار لوگ تو کاروبار کے متلاشی ہیں. ہنر مند تیار کریں. لوگوں کی راہنمائی کریں. سب شوق اور لگن سے کام کریں. دیکھیں دس بیس سالوں میں علاقہ بھر کی کایا پلٹتی ہے یا نہیں.

خوشحال کی دستک(3)

.                  خوشحال کی دستک(3)

            تازہ ترین مردم شماری کے مطابق پاکستان کی اکسٹھ فیصد آبادی دیہات میں رہائش پذیر ہے. اور شاید اسی فیصد دیہی آبادی کو گیس کی سہولت میسر نہیں. اسطرح تقریباً آدھی پاکستانی آبادی کھانا پکانے اور روزمرہ توانائی کی دیگر ضروریات لکڑی، کوئلہ یا اپلے وغیرہ جلا کر پورا کرتی ہے.جس میں سے غالب حصہ لکڑی کا ہی ہے. اس کے علاوہ دیہات اور شہروں میں تجارتی اور صنعتی مقاصد کیلیے بھی بڑے پیمانے پر لکڑی جلائی جاتی ہے.
          لکڑی کی پیداوار چونکہ ایک سست عمل ہے اور ہم بحیثیت قوم بہت زیادہ شجرکاری کے رسیا بھی نہیں، نتیجتاً جنگلات کا رقبہ دن بدن سکڑتا جارہا ہے.جو بہت خطرناک صورتحال ہے. اس کے ساتھ ساتھ لکڑی جلانا ایک مشکل اور تکلیف دہ عمل بھی ہے کہ اس کے ساتھ دھواں بہرحال ضرور پیدا ہوتا ہے. یہ دھواں جہاں وطن عزیز میں فضائی آلودگی کاباعث ہے، وہی چولہا جلانے والی ہماری بہنوں، بیٹیوں کی صحت کیلئے بھی مضر ہے. نیز برتنوں کی کالک ایک الگ مسئلہ ہے. 
            جلنا بنیادی طور پر لکڑی اور ہوا میں موجود آکسیجن کا کیمیائی تعامل ہے. جب لکڑی کو کھلی ہوا میں جلایا جاتا ہے تو دستیاب آکسیجن کی کثرت کی وجہ سے لکڑی دھڑادھڑ جلنے لگتی ہے اور کچھ ہی دیر میں راکھ کا ڈھیر بن جاتی ہے. البتہ سائنسدانوں نے بہت پہلے یہ بات دریافت کرلی تھی کہ  اگر لکڑی کر کسی بند برتن نما چولہے میں اس طرح جلایا جائے کہ اسے بہت نپی تلی مقدار میں آکسیجن ملے تو لکڑی کا کچھ حصہ جلنے لگتا ہے. اور اس جلتی ہوئی لکڑی کی حرارت سے باقی لکڑی بہت زیادہ گرم ہوکر مختلف گیسوں میں تبدیل ہو جاتی ہے. یہ گیسیں پھر تادیر نکلتی اور جلتی رہتی ہیں. کیمیائی طور پر اس عمل کو عملِ ایشکافتِ چوب ( wood pyrolysis)  کہتے ہیں. اور اس برتن نما چولہے کو گیسی چولہا ( gasifier stove  )  کا نام دیا گیا. 
        فی الحقیقت  گیسی چولہا ایسی زبردست  ایجاد تھی  کہ جس کے استعمال سے دیہی خواتین کی زندگی ایک طرح کا انقلاب برپا کیا جاسکتا تھا . اس سے جہاں لکڑی کا استعمال آدھا یا اس سے کم رہ جاتا  اور پیسے کی براہ راست بچت ہوتی . وہیں پر خواتین کی لکڑیاں جلانے جیسے تکلیف دہ عمل اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے دھویں سے بھی جان چھوٹ جاتی. لیکن اس میں ایک مسئلہ تھا. اور وہ یہ کہ جس چھوٹے سے سائز کا چولہا گھریلو استعمال کیلیے درکار تھا اس میں بہت چھوٹے اور ایک جیسے  لکڑی کے ٹکڑے چاہیے ہوتے جن کو بنانا بذاتِ خود ایک مشکل اور مہنگا عمل تھا. سو صنعتی پیمانے پر تو گیسیفائرز بننے اور استعمال ہونے لگے لیکن گھریلو استعمال تادیر ممکن نہ ہوسکا. 
           
         تاوقتیکہ کوئی چالیس سال قبل لکڑی کے برادہ سے لکڑی کی گولیاں نہ بنا لیں گئیں. لکڑی کی گولیاں لکڑی کے برادے اور شیرے کے ملاپ سے ایک چھوٹی سی انتہائی کم قیمت مشین کے ذریعہ بآسانی بنائی جاسکتی.  جیسے ہی ان گولیوں کی پیداوار شروع ہوئی گھریلو سائز کا چولہا بننا شروع ہو گیا. اور اس میں وہ تمام خصوصیات موجود تھیں جس کی خواتین عرصہ دراز سے منتظر تھیں 
        
            لہذا دیکھتے ہی دیکھتے یہ چولہا پوری دنیا میں مقبول اور مستعمل ہوگیا. ہمارے خطہ میں چین سے لیکر ویت نام اور بھارت سے لیکر سری لنکا اور برما تک سب ملکوں میں بننا اور استعمال ہونا شروع ہوگیا. اگر ایک ملک اور اس کے باسی اس انقلابی ایجاد سے فائدہ اٹھانے سے قاصر رہے اور ہیں تو وہ ہم پاکستانی ہیں. 
   
            لکڑی کی گولیاں بنانے والی چھوٹی مشین کی قیمت صرف چار  لاکھ روپے ہے. اور برادہ سے تیار کرنے پر ان گولیوں کی لاگت  اتنی ہے کہ  اگر ان کی قیمت فروخت بیس روپے رکھی جائے تو بآسانی ایک مشین سے ماہانہ ایک لاکھ روپے تک کمائے جاسکتے ہیں.
   
             دوسری طرف محض ایک کلوگرام گولیوں سے چولہا گھنٹہ بھر مکمل لو میں جلتا ہے جس پر بھرے گھر کا ایک وقت کا  کھانا بآسانی پکایا جاسکتا ہے.  ایل پی جی گیس کے مقابلہ میں اس کی قیمت آدھی سے بھی کم پڑتی ہے. مقامی طور پر تیار شدہ مکمل آٹومیٹک گھریلو چولہے کی قیمت سات سے آٹھ ہزار روپے ہے. جو صرف ایک بار خرچ کرنا ہیں. گھریلو کے ساتھ ساتھ حلوائیوں، نان بائیوں اور دیگیں پکانے والوں کیلیے برڑے سائز کے کمرشل چولہے بھی دستیاب ہیں. 

         مزے کی بات یہ ہے کہ گولیاں صرف برادہ سے ہی نہیں، گندم کی توڑی، چاولوں کی پرالی، کپاس کی چھٹیوں، درختوں کے پتوں، خشک گھاس یہاں تک کہ خشک شدہ گوبر سے بھی بنائی جا سکتی ہیں اور وہی نتائج دیتی ہیں. میرے خیال میں اگر ہم اس چولہے کے نظام کو اپنا لیں تو  ہر گاؤں میں پانچ دس لوگ گولیاں بنانے اور ان کی ترسیل میں برسرِ روزگار آسکتے ہیں.  اس طرح فی الحقیقت  نہ صرف لاکھوں لوگوں کو روزگار ملے گا. بہت سے درخت اور  لکڑی خوامخواہ جلنے سے بچ جائے گی.اور خواتین کو آلودگی اور مضر صحت دھوئیں سے بھی سے نجات ملے گی. تو پھر ہوئی نا خوشحالی کی دستک.

    نوٹ :اس ضمن میں ہر طرح کا تکنیکی تعاون مہیا کیا جاسکتا ہے. 

      (  جاری ہے)

                                          ( ابنِ فاضل)

چند بیکار باتیں

.                               چند بیکار باتیں 
      
               برازیل کی شمال مشرقی ریاستوں میں ایک درخت پایا جاتا ہے جسے کارنوبا پام کہتے ہیں.قدرت کی فیاضی دیکھیے کہ کارنوبا پام کے پتوں میں سے ایک پیلے رنگ کا پلاسٹک نما مادہ نکلتا ہے جسے کارنوبا موم کہتے ہیں. یہ کارنوبا موم بہت ہی کارآمد  چیز ہے. کار سے لیکر جوتوں تک کی ہر معیاری پالش کا لازمی جزو ہے. میک اپ کے سامان،  چاکلیٹ اور دیگر کھانے کی اشیاء وغیرہ میں بھی خاصا استعمال ہے. صرف برازیل میں پیدا ہونے والی اس موم کی  دنیا بھر میں بہت مانگ ہے. اور برازیل سالانہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی کارنوبا موم برآمد کرتا ہے. 
   
               مراکش میں آرگان نامی ایک درخت ہے. اس پر بیر جیسا ایک پھل لگتا ہے. جس میں سے زیتون کی طرح کا تیل نکلتا ہے. اس تیل کو آرگان آئل کہتے ہیں. آرگان آئل نے قدرت نے انسانی بالوں اور جلد کی نشوونما کے لیے انتہائی مفید اجزاء رکھے ہیں. اس کی بے پناہ خوبیوں کی بدولت اب ہر اچھے شیمپو اور جلد کی کریم میں آرگان کا استعمال تقریباً لازمی ہے. اس کی مانگ کو دیکھتے ہوئے مراکش نے آٹھ ہزارمربع کلومیٹر سے زائد رقبہ پر اس کا جنگل آگا لیا ہے. مراکش کے بیس لاکھ لوگوں کا روزگار صرف آرگان آئل سے وابستہ ہے. اس کی سالانہ برآمد ایک ارب ڈالر سے زائد ہے. 
    
            جنوبی امریکہ کے کچھ ممالک میں ایک سرخ رنگ کا چھوٹا سا کیڑا پایا جاتا ہے جسے کوچنیل کہتے ہیں. اس کیڑے کی خاصیت یہ ہے کہ اس کو خشک کرکے اگر پیس لیا جائے تو چھوٹے سے کیمیائی عمل کے بعد وہ اعلیٰ درجہ کا سرخ رنگ بن جاتا ہے. یہ سرخ رنگ دنیا بھر میں سب اچھا اور محفوظ کھانے کا رنگ تصور کیا جاتا ہے یہاں تک کہ میکڈونلڈ اور سٹاربکس بھی اپنی مختلف مصنوعات میں کوچنیل سے بنے رنگوں کے استعمال کا اعتراف کرچکے ہیں. برسبیلِ تذکرہ اس رنگ کو ملیشیا کی فتوٰی کونسل نے حلال قرار دے رکھا ہے. یہ کیڑے باقاعدہ پالے جاتے ہیں. اور صرف پیرو نے پچھلے سال قریب ایک ارب ڈالر مالیت کے دو سوٹن کوچنیل برآمد کیے. 

             یہ صرف چند مثالیں ہیں. ورنہ دنیا میں بیربیری کے ایکسٹریکٹ سے لیکر بھیڑوں کی اون سے نکلنے والی لینولن تک اور چیمومائل کے تیل سے لاکھ روپے کلوگرام والے زعفران تک قدرت کی فیاضی کی ایسی درجنوں مثالیں بکھری ہیں. اور دنیا کے درجنوں ممالک کے لاکھوں لوگ ان اشیاء کی پیداوار اور تجارت سے اپنی زندگیوں میں خوشحالی لارہے ہیں. 

               آپ کو کیا لگتا ہے کہ پاکستان میں قدرت نے  ایسی ایک بھی چیز پیدا نہ کی ہوگی. درجنوں ہیں. صرف ہم نااہل ہیں. نہ غور کرتے ہیں نہ علم حاصل کرتے ہیں. بس شکوہ کرتے ہیں اور وقت ضائع کرتے ہیں. لیکن مجھے یقین ہے جس دن ہم نے مثبت سمت  میں غوروفکر اور سعی شروع کردی ہمارا کوئی مقابل نہ ہوگا. تو کیوں نہ  آج سے غوروسعی شروع کردیں.  
                                    (  ابنِ فاضل)

خوشحالی کی دستک (2)

.                         خوشحالی کی دستک (2)  

             انیسویں صدی کی آخری سے پہلی دہائی کا وسط. امریکہ میں ایک دلیا بنانے والی صنعت کا قیام عمل میں لایا گیا. یہ کمپنی جوی (oat) سے دلیا تیار کرتی. جوی بہت زیادہ فوائد کی حامل غذا ہے. جس میں انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری نشاستہ، چکنائی، لحمیات، وٹامنز، نمکیات اور فائبر پایا جاتا ہے. یاد رہے کہ یہ وہی جوی ہے جو ہمارے ہاں جانوروں بطور خاص گھوڑوں کی خوراک کےلیے مختص ہے. جوی کے دانوں پر چاول کی طرح مضبوط چھلکا ہوتا ہے جسے(oat hulls) کہا جاتا ہے. 
     
            دلیا بہت بکا. اور جلد ہی  کمپنی کے پاس بہت بڑی مقدار میں چھلکا اکٹھا ہو گیا. کمپنی کے ذمہ داران نے اسوقت کچھ سائنسدانوں سے مناسب مشاہرہ پر معاہدہ کیا اور یہ ہدف دیا کہ وہ دریافت کریں کہ اس چھلکے میں کیمیائی طور پر کوئی کارآمد شے ہے یا یہ صرف بطور ایندھن ہی استعمال ہوسکتا ہے. چند ماہ میں سائنسدانوں نے یہ پتہ چلا لیا کہ ایک ذرا سے کیمیائی عمل سے ان چھلکوں سے فرفیورال کشید کیا جاسکتا ہے. 
  
             اگلے مرحلہ پر پھر اس کمپنی نے نیا ہدف مقرر کیا. کہ اس فرفیورال سے کون کون سی مفید اشیاء بنائی جاسکتی ہیں. پھر کچھ ہی عرصہ میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اس کیمیائی مرکب سے درجنوں کارآمد اشیاء بناڈالیں. جن میں کاغزی ٹیپ کا گلو.ڈھلائی سے  لوہے کے پرزے بنانے میں  استعمال کیا جانے والا ایک مرکب، رنگ سازی اور تعمیرات میں استعمال ہونے والے کیمیکلز شامل ہیں. غرض بہت جلد وہ کمپنی فرفیورال سے بنی اشیاء بنانے والی ایک بڑی کمپنی بن گئی. جو آج بھی قائم ہے. 
       
             عصر حاضر میں یہ فرفیورال اور بھی زیادہ کارآمد ثابت ہورہا ہے. موجودہ دور میں مندرجہ بالا اشیاء کے علاوہ پولی یوریتھین اور نائلون جیسی بیش قدر اور مفید اشیاء کے ساتھ ساتھ سینکڑوں قسم کی دیگر چیزیں بنتی ہیں. مزے کی بات یہ ہے کہ یہی کیمیکل مکئ کے تُکوں، چاول کے چھلکوں، گنے کے پھوک اور کپاس کے ڈوڈھوں میں بھی موجود ہوتا ہے. پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے لاکھوں ٹن یہ زرعی فضلہ پیدا کرتا ہے جس سے اربوں ڈالر مالیت کا ہزاروں ٹن سالانہ فرفیورال بنایا جاسکتا ہے. 
         
                صرف رفحان میز ہی سینکڑوں ٹن مکئی کے تکے انتہائی سستے داموں بطور ایندھن فروخت کرتی ہے. اسی طرح درجنوں بڑی چھوٹی شوگر ملیں گنے کا  پھوک  اور چاول چھڑنے والے شیلر، چاولوں کی توہ فروخت کرتے ہیں. لیکن افسوس اور حیرت کی بات یہ ہے آج 2019 میں  بھی کسی کے ذہن میں وہ بات نہیں آئی جو امریکیوں کے دماغ میں 1885 میں سمائی تھی. لگتا ہے یہی فرق ہے ہم میں اور باقی دنیا میں. نہ ہم غور کرتے ہیں نہ نئے رستے سوجھتے ہیں. اقبال نے قریب سو سال قبل یہ راہنمائی کی تھی. 
         
                 جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود

           یہ عین ممکن ہے کہ گنے کے پھوک سے فرفیورال کی کشید کے بعد چینی کا منافع ثانوی حیثیت اختیار کرے. بات یہیں ختم نہیں ہوتی. اگر ہم غور کرنا شروع کردیں اور ارد گرد موجود اشیاء کے متعلق علم حاصل کرنا شروع کردیں تو یقین کریں کہ ہم میں سے کوئی بھی بیکار نہ رہے. 

           چاولوں کی پالش سے انتہائی کم لاگت کی دو چھوٹی مشینوں سے گھریلو سطح رائس بران آئل اور بران ویکس نکالی جاسکتی ہے. بران آئل بہت ہی عمدہ قسم کا کھانے کا تیل ہے جس کا پکنے کے دوران دھواں نہ ہونے کھ برابر ہوتا ہے. اس میں اومیگا 3 اور اومیگا 6 کی تعداد کسی بھی خوردنی تیل سے زیادہ ہے. اس کی مقامی منڈی  میں قیمت 650 روپے کلو ہے. جبکہ بران ویکس یا بران موم ، مہنگی درآمدہ کارنوبا موم کے نعم البدل کے طور پر پالشوں اور کاسمیٹکس میں استعمال کی جاسکتی ہے جس سے لاکھوں ڈالر کے زر مبادلہ کی بچت ہو گی. 
   
               گذارش یہ ہے کہ مندرجہ بالا سب اشیاء کی پیداوار کے لئے کوئی بہت بڑے پلانٹس یا لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار نہیں. ان سب کو ہمارے دیہات میں گھریلو صنعت کے طور پر اختیار کیا جاسکتا ہے. ضرورت اس امر کی ہے کہ  پی سی ایس آئی آر یا پٹاک جیسے حکومت کے تحقیقاتی ادارے یا تو یہ  مشینیں خود ڈیزائن کریں یا باہر سے منگوا کر ان کی ڈرائنگز بنا  لیں یعنی ریورس انجینئرنگ. اور مقامی قابل ہنر مند افراد میں تقسیم کریں تاکہ ملک میں بڑے پیمانے پر ایسی مشینوں کی تیاری شروع ہو. جس سے ہزاروں لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور مقامی طور پر تیار ہونے کی وجہ سے مشین کی لاگت بھی کم ہوگی. پھر دیہات کے نوجوانوں کو ان کو استعمال کرنے کی تربیت دے کر انہیں کام پر لگا دیا جائے. حکومت نے نوجوانوں کے لئے کاروباری قرضوں کی سکیم کا پہلے سے اعلان کر رکھا ہے. ان قرضوں میں ان منصوبوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ ویلیو ایڈڈ نئی اشیاء کی پیداوار شروع ہو. اور درآمدات میں کمی ہو.اور ملک اور ہموطن خوشحال ہوں. 
      ایسے درجنوں مزید منصوبہ جات کے بارے میں اگلی اقساط کے بارے میں بتایا جائے گا. انشاءاللہ
                                              ( ابنِ فاضل)

خوشحالی کی دستک (1)

.                     خوشحالی کی دستک (1)

         ڈرائی فروٹ یا خشک میوہ جات سے تو سب واقف ہیں. یہ ایسے پھل ہیں جن کو خشک حالت کے سوا کھایا ہی نہیں جا سکتا، جیسے بادام، اخروٹ، کاجو، پستہ اور مونگ پھلی وغیرہ. مگر ڈرائیڈ فروٹ یا خشک پھل انہیں کہا جاتا ہے جو خشک کیے بغیر بھی کھائے جاتے ہیں اور خشک کرنے کے بعد بھی. جیسے آلوبخارا، خوبانی، انجیر اور انار دانہ.

             ہمارے ہاں چونکہ رواج نہیں، آسودہ حال ملکوں میں تقریباً  سبھی پھل جیسے آم، کیلا، انناس، کیوی پھل، ایوکاڈو، چیری اور امرود وغیرہ خشک شکل میں دستیاب ہوتے ہیں اور بالخصوص ناشتہ میں استعمال کیے جاتے ہیں. دنیا بھر میں یہ کروڑوں ڈالر کا کاروبار ہے اور ہم اس سے بالکل ناآشنا ہیں. 
    
               آج کل آم کا موسم ہے. اور پاکستان میں جس عمدہ معیار کے آم جس بڑی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں، ہم تھوڑی سی توجہ محنت اور سرمایہ کاری سے بہت ہی اچھی قسم کا خشک آم بنا کر نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ ساری دنیا میں فروخت کرسکتے ہیں اور لاکھوں بلکہ کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ کماسکتے ہیں. 

                   آم کو خشک کرنا انتہائی آسان ہے. دوسہری، انور لٹور، چونسا اور سندھڑی  وغیرہ کی تو ویسے بہت  مانگ ہے، مگر آم کی جو قسمیں جیسے لنگڑا، فجری اور دیسی وغیرہ کی بلاواسطہ مانگ کم ہے لہذا یہ نسبتاً سستے بھی ہیں. ان کو باآسانی خشک کرکے مہنگے داموں فروخت کیا جاسکتا ہے. 
   
             آم خشک کرنے کا عمل انتہائی آسان ہے. اور اگر آم کے پیداوار کے علاقہ کی خواتین کو اس کے چھوٹے چھوٹے کورس کروادیے جائیں تو یہ گھروں میں باآسانی دس بیس کلو خشک آم روزانہ گھر میں بناسکتی ہیں. اس طرح اس کی باقاعدہ صنعت بھی لگائی جاسکتی ہے. 

             پکے ہوئے آموں کو اچھی طرح دھو کر چھیل لیا جاتا ہے.دھونے کیلیے استعمال ہونے والے پانی میں سوڈیم ہائپوکلورائٹ  جسے ہم عام زبان میں رنگ کاٹ کہتے ملایا جاتا ہے تاکہ جراثیم سے بچا جاسکے. پھر ان کی قاشیں بنا کر ایک کڑاہی میں ڈال کر اس میں آم کے آدھے وزن کے برابر چینی ڈالی جاتی ہے. جب چینی حل ہوجائے تو اس آچینی اور آم کے آمیزے کو ہلکی آنچ پر بیس  سے تیس منٹ پکایا جاتا ہے. حتی کہ یہ کچھ شفاف سے ہوجائیں.
    
          پھر ٹھنڈا ہونے پر سوڈیم میٹا بائی سلفائٹ (جو بازار میں باآسانی دستیاب ہے) ملا کر کچھ دیر بعد دھو دیا جاتا ہے. اس کے بعد صاف کپڑے پر بچھا کے ڈی ہائڈریٹر یا اوون میں پہلے  پچاس اور پھر  اسی ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم کیا جاتا ہے. اس عمل میں قریب بیس گھنٹے میں ان میں نمی کی مقدار کم ہوکر بیس سے پچیس فیصد رہ جاتی ہے. اب انکو مومی لفافوں میں ہوا کے بغیر پیک کردیا جاتا ہے. 

              اس طرح پیک کئے گئے خشک آم چھ ماہ سے ایک سال صحیح رہتے ہیں. اس عمل سے ایک کلو آم کی قاشوں سے آدھ کلو  خشک آم حاصل ہوتے ہیں. آپ بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس عمل سے تیار کیے گئے خشک آموں کی قیمت زیادہ سے دو سوا دوسو روپے فی کلو گرام پڑے گی. لیکن آپ حیران ہوں گے کہ عالمی منڈی میں اس کی قیمت دس ڈالر فی کلو تک ہے. یعنی سولہ سو روپے فی کلو. ابھی پچھلے ماہ ہم نے ملائشیا سے پاکستانی بائیس سوروپے فی کلو کے حساب سے خریدے. 
    
            اس وقت فلپائن دنیا بھر میں خشک آم درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے. جو ساری دنیا کو سالانہ کروڑوں ڈالر کے خشک آم درآمد کرتا ہے. بجز اس حقیقت کے کہ انکے آم ہمارے آموں کے مقابلہ میں انتہائی بےذائقہ اور پھسپھسے ہیں. ان کی وزارت نے اس کا باقاعدہ ایک کورس ڈیزائن کررکھا ہے. جس کی ویڈیو یو ٹیوب پر بھی دستیاب ہے. کوئی بھی سمجھدار انسان تین چار دفعہ یہ ویڈیو دیکھ کر خشک آم تیار کر سکتا ہے. فلپائن کی سرکاری کی ویب سائٹ پر خشک آم بنانے اور برآمد کرنے والی بڑی کمپنیوں کے رابطہ نمبر تک دیے گئے ہیں. حالانکہ فلپائن کوئی ترقی یافتہ ملک نہیں. مگر افسوس کہ ہم ان سے بھی گئے گذرے ہیں. 
    
              اگر ہم اپنے گاؤں میں ووڈ پیلٹ یا بائیو ماس سے چلنے والے چولہے عام کردیں تو اس عمل کو اور بھی آسان اور سستا کیا جاسکتا ہے. اسی طرح خشک کرنے کیلئے ڈی ہائڈریٹر بھی سورج کی گرمی میں بغیر کسی ایندھن یا بجلی کے چلتا ہے. اس کا ڈیزائن بھی انتہائی سادہ ہے. یہ بچوں کی سلائیڈ کی طرح کا ایک ڈبہ ہے. جس میں کچھ ایلومینیم سے بنے پائپ لگے ہوتے ہیں. جن پر جب سورج کی روشنی پڑتی ہے تو ان کے اندر موجود ہوا کو گرم کردیتی ہے جو اوپر کو اٹھتی ہے اور اس ڈبے میں جہاں خشک کرنے کے لیے پھل رکھے ہوتے ہیں گذرتی ہے. یہ گرم ہوا پھلوں کی نمی کو اپنے ساتھ لے کر اوپر کے راستی سے باہر نکل جاتی ہے.
  
          ڈی ہائڈریٹر چند ہزار روپے میں کھڑکیاں دروازے بنانے والا کاریگر بناسکتا ہے. جس کی تصویر بھی آسانی کیلیے یہاں لگادیں گئی ہے. اور یہ آم کے علاوہ ہر قسم کے پھل اور سبزیاں خشک کرنے کے لیے استعمال ہوسکتا ہے. 
   
            میری دلی  خواہش ہے کہ ہر پاکستانی کام کرے، اسے اس کی محنت کا بھر پور معاوضہ ملے اور ہرسو خوشحالی ہو. لیک اس کیلیے ضروری ہے کہ ہم مایوسی سے نکلیں اپنے ماحول میں دستیاب وسائل کے متعلق غور کریں اور ان کو مفید اور کارآمد بنانے کا ہنر سیکھیں. 
      

               (جاری ہے)
                                       ( ابن فاضل)

خوشحالی کی دستک. (5)

.                     خوشحالی کی دستک. (5)          جان فریڈرک بوئیپل ایک جرمن ہنر مند تھا. وہ ہڈیوں، سینگوں، لکڑی اور سیپیوں سے کارآم...