. چند بیکار باتیں
برازیل کی شمال مشرقی ریاستوں میں ایک درخت پایا جاتا ہے جسے کارنوبا پام کہتے ہیں.قدرت کی فیاضی دیکھیے کہ کارنوبا پام کے پتوں میں سے ایک پیلے رنگ کا پلاسٹک نما مادہ نکلتا ہے جسے کارنوبا موم کہتے ہیں. یہ کارنوبا موم بہت ہی کارآمد چیز ہے. کار سے لیکر جوتوں تک کی ہر معیاری پالش کا لازمی جزو ہے. میک اپ کے سامان، چاکلیٹ اور دیگر کھانے کی اشیاء وغیرہ میں بھی خاصا استعمال ہے. صرف برازیل میں پیدا ہونے والی اس موم کی دنیا بھر میں بہت مانگ ہے. اور برازیل سالانہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی کارنوبا موم برآمد کرتا ہے.
مراکش میں آرگان نامی ایک درخت ہے. اس پر بیر جیسا ایک پھل لگتا ہے. جس میں سے زیتون کی طرح کا تیل نکلتا ہے. اس تیل کو آرگان آئل کہتے ہیں. آرگان آئل نے قدرت نے انسانی بالوں اور جلد کی نشوونما کے لیے انتہائی مفید اجزاء رکھے ہیں. اس کی بے پناہ خوبیوں کی بدولت اب ہر اچھے شیمپو اور جلد کی کریم میں آرگان کا استعمال تقریباً لازمی ہے. اس کی مانگ کو دیکھتے ہوئے مراکش نے آٹھ ہزارمربع کلومیٹر سے زائد رقبہ پر اس کا جنگل آگا لیا ہے. مراکش کے بیس لاکھ لوگوں کا روزگار صرف آرگان آئل سے وابستہ ہے. اس کی سالانہ برآمد ایک ارب ڈالر سے زائد ہے.
جنوبی امریکہ کے کچھ ممالک میں ایک سرخ رنگ کا چھوٹا سا کیڑا پایا جاتا ہے جسے کوچنیل کہتے ہیں. اس کیڑے کی خاصیت یہ ہے کہ اس کو خشک کرکے اگر پیس لیا جائے تو چھوٹے سے کیمیائی عمل کے بعد وہ اعلیٰ درجہ کا سرخ رنگ بن جاتا ہے. یہ سرخ رنگ دنیا بھر میں سب اچھا اور محفوظ کھانے کا رنگ تصور کیا جاتا ہے یہاں تک کہ میکڈونلڈ اور سٹاربکس بھی اپنی مختلف مصنوعات میں کوچنیل سے بنے رنگوں کے استعمال کا اعتراف کرچکے ہیں. برسبیلِ تذکرہ اس رنگ کو ملیشیا کی فتوٰی کونسل نے حلال قرار دے رکھا ہے. یہ کیڑے باقاعدہ پالے جاتے ہیں. اور صرف پیرو نے پچھلے سال قریب ایک ارب ڈالر مالیت کے دو سوٹن کوچنیل برآمد کیے.
یہ صرف چند مثالیں ہیں. ورنہ دنیا میں بیربیری کے ایکسٹریکٹ سے لیکر بھیڑوں کی اون سے نکلنے والی لینولن تک اور چیمومائل کے تیل سے لاکھ روپے کلوگرام والے زعفران تک قدرت کی فیاضی کی ایسی درجنوں مثالیں بکھری ہیں. اور دنیا کے درجنوں ممالک کے لاکھوں لوگ ان اشیاء کی پیداوار اور تجارت سے اپنی زندگیوں میں خوشحالی لارہے ہیں.
آپ کو کیا لگتا ہے کہ پاکستان میں قدرت نے ایسی ایک بھی چیز پیدا نہ کی ہوگی. درجنوں ہیں. صرف ہم نااہل ہیں. نہ غور کرتے ہیں نہ علم حاصل کرتے ہیں. بس شکوہ کرتے ہیں اور وقت ضائع کرتے ہیں. لیکن مجھے یقین ہے جس دن ہم نے مثبت سمت میں غوروفکر اور سعی شروع کردی ہمارا کوئی مقابل نہ ہوگا. تو کیوں نہ آج سے غوروسعی شروع کردیں.
( ابنِ فاضل)
No comments:
Post a Comment