Wednesday, August 28, 2019

خوشحالی کی دستک (4)

.                     خوشحالی کی دستک (4) 

             نیکی موٹو  کوکی چی  ایک جاپانی کاروباری آدمی تھا. اس نے 1885 میں پہلی بار پتہ چلایا کہ کہ سیپ میں موتی کس طرح بنتا ہے. اس نے جانا کہ جب کسی حادثہ کے نتیجہ میں کوئی ریت کا ذرہ یا کسی دوسرے جانور کا کوئی ٹوٹا ہوا حصہ سیپ کے گوشت والے حصہ میں داخل ہوجاتا ہے تو سیپ کو بہت الجھن اور خارش کا احساس ہوتا ہے. اس خارش سے بچنے کیلیے وہ خودکار طریقے سے اسی مادہ کی تہیں اس ریت کے ذرے گرد بنانا شروع کردیتا ہے جس سے اس کا باہری شیل بنا ہوتا ہے. 
    
             تہہ در تہہ کیلشیم کے مرکبات سالہا سال میں اس ریت کے  پرچڑھتے رہتے ہیں تاوقتیکہ وہ ایک موتی کی شکل اختیار کر لیتا ہے. اس جانکاری کے بعد نی کی موٹو نے  مصنوعی طورپر  ریت کے ذرے کی جگہ سیپ کے جسم کا ہی دوسرا حصہ اس کے گوشت میں داخل کرنے کے تجربات کیے. اور کچھ ہی عرصہ میں وہ مصنوعی طریقے سے پیدا کردہ اصل موتی جسے کلچرڈ پرل کا نام دیا گیا حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا. 
   
              اس کامیابی کے بعد اس نے کلچرڈ موتیوں کا پہلا فارم بنایا. اور یو جاپان میں اس صنعت کی بنیاد پڑی. جو 1928 تک جاپان کے سارے مشرقی ساحلی علاقوں تک پھیل چکی تھی. 1944 میں جب امریکہ نے جاپان پر ایٹمی حملے کئے تو جاپانی صنعت اور معیشت بالکل ختم ہوکر رہ گئی. بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ  ان حملوں کے  بعد اگلے پندرہ سال تک جاپان کی معیشت کا سارا بوجھ صرف اور صرف ان موتیوں کی صنعت نے اٹھایا. آج جاپان دنیا میں موتی سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے. اس وقت جاپانیوں کے سیپ فارمز میں پالے جانے والے سیپ کی تعداد اربوں میں ہے. سن 2018 میں انہوں نے لگ بھگ دوسو ارب روپے کے موتی ساری دنیا کو سپلائی کیے. 
   
              جاپان کی دیکھا دیکھی خطے کے سبھی ملکوں بشمول تھائی لینڈ، ویت نام، منیلا بھارت، انڈونیشیا، ملیشیا یہاں تک کہ میانمار میں بھی کلچرڈ پرل کی فارمنگ کی جاتی ہے. چین نے بہت بڑے پیمانے پر اس کو شروع کردیا ہے. بدقسمتی سے پورے خطہ میں فقط ہم پاکستانی ہیں جو ہر فکر سے آزاد خواب مست کے مزے لوٹ رہے ہیں. 
   
            اور اس خطے سے باہر آسٹریلیا، امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک سالانہ اربوں ڈالر اس صنعت سے کمارہے ہیں. آسٹریلیا کے ساحل پر پائے جانے والے سیپ خاص طور پر بڑے سائز کے موتی بنانے میں شہرت رکھتے ہیں. وہاں اس کام میں لوگوں کے شوق کا یہ عالم ہے کہ سمندر سے سیپ پکڑنے کیلیے باقاعدہ لائسنسنگ سسٹم کا اجراء کرنا پڑا تاکہ سمندر میں ان کی آبادی خطرہ کا شکار ہی نہ ہو جائے. 
  
           آجکل جنیٹک انجینئرنگ کی مدد سے  سیپ میں جینیاتی تبدیلیوں سے اپنی مرضی کے رنگوں کے موتی بھی تیار کیے جاتے ہیں. جن کی قیمت ظاہر ہے کہ عام موتیوں سے بہت زیادہ ہوتی ہے. بطور خاص نیلے رنگ کے موتی بہت قیمتی تصور کیے جاتے ہیں. حال ہی میں کالے رنگ کے موتی بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا جس کی پہلی کھیپ لاکھوں ڈالر میں نیلام ہوئی. 
       
        موتی کیلیے سیپ  کو مصنوعی طریقے سے سینچنے کے عمل کو پرل گرافٹنگ کہتے ہیں. یہ ایک انتہائی آسان عمل ہے. سیپ کو کچھ دیر کیلیے نیم گرم پانی میں رکھا جاتا ہے جس سے اس کے اعضاء کھل جاتے ہیں. اس کے بعد کسی دوسرے سیپ سے حاصل کیے گئے چھوٹے سے ٹکڑے کو ایک چاقو جیسے اوزار کی مدد سے چھوٹا سا کٹ لگا کر سیپ کے بدن میں داخل کردیا جاتا ہے. میرے خیال میں یہ بچوں کے ختنے کرنے سے بھی کہیں آسان کام ہے جو کہ لاکھوں لوگ اس ملک میں بغیر کسی ڈگری کے انجام دے رہے ہیں. 

            ذرا تصور کریں. پاکستان کا ہزاروں کلومیٹر لمبا ساحل سمندر، سارے ساحل کے ساتھ ساتھ پرل فارمنگ ہوئی ہو تو کتنے لوگ برسر روزگار ہوں اور کتنا زر مبادلہ کمائیں. ایف ایس سی میڈیکل کرنے والے لاکھوں بچے ہر سال جو میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے میڈیکل کالج میں نہیں جاسکتے ان کیلئے کوئی بی ایس سی پرل فارمنگ کا سلیبس بناکر یونیورسٹیز میں کورسز کروا دیے جائیں.

            بالکل چھوٹا سا ایک آپریشن ہے،  دس بیس لوگوں کو جاپان، یا چین سے تربیت دلواکر  ان یونیورسٹیز میں تربیت پر معمور کردیا جائے. سرمایہ دار لوگ تو کاروبار کے متلاشی ہیں. ہنر مند تیار کریں. لوگوں کی راہنمائی کریں. سب شوق اور لگن سے کام کریں. دیکھیں دس بیس سالوں میں علاقہ بھر کی کایا پلٹتی ہے یا نہیں.

No comments:

Post a Comment

خوشحالی کی دستک. (5)

.                     خوشحالی کی دستک. (5)          جان فریڈرک بوئیپل ایک جرمن ہنر مند تھا. وہ ہڈیوں، سینگوں، لکڑی اور سیپیوں سے کارآم...